دبئی میں پولیس افسر کی خفیہ ویڈیو بنانے والی 2 خواتین گرفتار
دبئی میں دو خواتین کو ایک پولیس افسر کی خفیہ ویڈیوبنانے پر گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اماراتی میڈیا کے مطابق ان خواتین نے پولیس افسر کی ویڈیو اس وقت بنائی جب اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی کر رہا تھا ۔
پولیس افسر ایک مشتبہ ملزم کو ہتھکڑی لگا رہا تھا جب ان خواتین نے اس کی ویڈیوبنا لی اور پھر اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔سوشل میڈیا صارفین نے پولیس افسر کی ویڈیو بنانے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور پولیس کو بھی یہ ویڈیو رپورٹ کر دی۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعدان دونوں خواتین کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم ان کی قومیت اور عمریں ظاہر نہیں کی گئیں ۔
اور یہ بھی نہیں بتایا گیاکہ یہ واقعہ کب رونما ہوا تھا اور ملزم کو کس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔دبئی پولیس کے شعبہ تفتیش جرائم کے سربراہ بریگیڈئیر جمال الجلاف نے خبردار کیا کہ ان دونوں خواتین نے ایک پولیس افسر کی سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران اس کی ویڈیو بنا کر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جرائم سے متعلق قانون نمبر 5 مجریہ 2012 کی خلاف ورزی کی جس کے تحت دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت دینا اور اس کی تشہیر کرنا سنگین جرم ہے ۔
جمال الجلاف نے لوگوں سے کہا کہ وہ دوسروں کی نجی زندگی کا احترام کریں، کسی بھی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی ویڈیو اور تصویر نہ بنائیں اور نہ سوشل میڈیا دبئی میں دو خواتین کو ایک پولیس افسر کی خفیہ ویڈیوبنانے پر گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اماراتی میڈیا کے مطابق ان خواتین نے پولیس افسر کی ویڈیو اس وقت بنائی جب اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی کر رہا تھا ۔
پولیس افسر ایک مشتبہ ملزم کو ہتھکڑی لگا رہا تھا جب ان خواتین نے اس کی ویڈیوبنا لی اور پھر اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔سوشل میڈیا صارفین نے پولیس افسر کی ویڈیو بنانے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور پولیس کو بھی یہ ویڈیو رپورٹ کر دی ۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعدان دونوں خواتین کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم ان کی قومیت اور عمریں ظاہر نہیں کی گئیں ۔ اور یہ بھی نہیں بتایا گیاکہ یہ واقعہ کب رونما ہوا تھا اور ملزم کو کس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔دبئی پولیس کے شعبہ تفتیش جرائم کے سربراہ بریگیڈئیر جمال الجلاف نے خبردار کیا کہ ان دونوں خواتین نے ایک پولیس افسر کی سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران اس کی ویڈیو بنا کر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جرائم سے متعلق قانون نمبر 5 مجریہ 2012 کی خلاف ورزی کی جس کے تحت دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت دینا اور اس کی تشہیر کرنا سنگین جرم ہے۔جمال الجلاف نے لوگوں سے کہا کہ وہ دوسروں کی نجی زندگی کا احترام کریں ،
کسی بھی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی ویڈیو اور تصویر نہ بنائیں اور نہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کریں۔اس کے علاوہ پولیس کی کارروائیوں کے دوران کی ویڈیو بنانے سے بھی گریز کریں ۔ واضح رہے کہ ان دونوں خواتین کوامارات کے سائبر کرائم قانون کی دفعہ 21 کے تحت کم سے کم چھے ماہ قید اور ڈیڑھ لاکھ سے پانچ لاکھ درہم تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے ۔

Comments
Post a Comment