7 ماہ سے بند سکول کھولنا ایک اچھا عمل ہے
ماہ سے بند سکول کھولنا ایک اچھا عمل ہیتاہم اسکولوں کی بندش ناقابل تلافی تعلیمی نقصان ہوا جس کا ازالہ ناممکن ہے لیکن بلوچستان بھر میں پرائیویٹ سکولوں میں ان ایام کی فیس وصول کرنا محض تعلیم کو فروخت اور کاروبار بنانے اور علم دشمنی کے مترادف ہے ۔
غریب اور مزدور طبقات کے بچوں کو فیس کے نام پر تعلیم سے دور رکھنے کی گھنانی سازش ہیجس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے پاکستان بھر کی طرح ستمبر کی آمد کے ساتھ ہی بلوچستان بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی رونقیں بھی دھیرے دھیرے بحال ہوتی نظرآرہی ہیں محض یہ رونقیں مخصوص طبقے کیلئے تو ہوسکتی ہیلیکن پرائیویٹ اسکولز کے مالکان کے اس حکم نامے سے غریب والدین کے نیندیں حرام ہوگئی ہے ۔
پرائیویٹ سکولز کی مالکان سات ماہ کی فیسوں کی داخلہ کے نام پر ادا کر نے کے احکامات سے غریب اور مزدور والدین میں شدید تشویش پیدا ہوگئی ہے کرونا وائرس کی طویل دورانیہ میں کاروباری بندشوں اور حالیہ سیلابی بارشوں نے بلوچستان کے غریب طبقات کو بدحال کردیا ہیایسی میں وہ والدین جو انتہائی محنت سے ایک ماہ کی فیس بمشکل ادا کرپاتے تھے ان کے لئے بچوں کا تعلیمی سال اور فیسوں کی وجہ سے ضیائع ہوتا نظر آرہا ہے ۔
انھوں نے صوبائی وزیر تعلیم اور ایم پی اے کچھی بولان سردار یار محمد رند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں پرائیویٹ سکولوں کو فیسوں بارے احکامات جاری کرے تاکہ والدین کو ریلیف مل سکیں اور وہ اپنے بچوں کے تعلیم کو آگئے بڑھا سکیں اسکولوں کی بندش حکومتی اقدام تھا جبکہ پرائیویٹ اسکول مالکان ایسے والدین کا قصور تصومچھ انسانی حقوق مچھ کے چیئرمین محمد عامر یوسفزئی نے صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند سے اپیل کی ہے کہ 7 ماہ سے بند سکول کھولنا ایک اچھا عمل ہتاہم اسکولوں کی بندش ناقابل تلافی تعلیمی نقصان ہوا جس کا ازالہ ناممکن ہے لیکن بلوچستان بھر میں پرائیویٹ سکولوں میں ان ایام کی فیس وصول کرنا محض تعلیم کو فروخت اور کاروبار بنانے اور علم دشمنی کے مترادف ہے ۔
غریب اور مزدور طبقات کے بچوں کو فیس کے نام پر تعلیم سے دور رکھنے کی گھنانی سازش ہیجس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے پاکستان بھر کی طرح ستمبر کی آمد کے ساتھ ہی بلوچستان بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی رونقیں بھی دھیرے دھیرے بحال ہوتی نظرآرہی ہیں محض یہ رونقیں مخصوص طبقے کیلئے تو ہوسکتی ہیلیکن پرائیویٹ اسکولز کے مالکان کے اس حکم نامے سے غریب والدین کے نیندیں حرام ہوگئی ہے ۔

Comments
Post a Comment