احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے مال مقدمہ کی گاڑیاں استعمال کرنے کیخلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی


 احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے مال مقدمہ کی گاڑیاں استعمال کرنے کے خلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی ۔ دوران سماعت ڈی جی نیب لاہورشہزاد سلیم عدالت میں پیش ہوئے ۔ 

 احتساب عدالت کے جج نے استفسار کیا آپ ڈی جی نیب ہیں ، کیا نام ہے آپ کا؟۔جس پر ڈی جی نیب نے کہا کہ میرا نام شہزاد سلیم ہے ۔ عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ آپ جو چیزیں کسٹڈی میں لیتے ہیں ان کا کیا کرتے ہیں یا خودچلاتے رہے ہیں؟،کمپنی کے ریکارڈ کے مطابق نیب حکام ملزمان کی گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں ۔ 

ڈپٹی پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ ملزمان کو ٹریس کرنے کے لیے گاڑی استعمال کی گئی ۔ احتساب عدالت کے جج نے استفسار کیا قانون اجازت دیتا ہے کہ نیب ملزمان کی گاڑیاں استعمال کرے . ڈپٹی پراسیکیوٹر نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا ۔ 

 جس پر جج احتساب عدالت نے کہا کہ آئندہ ایسا کسی صورت نہ ہو۔ڈی جی نے کہا کہ گاڑی کے ٹائر یا انجن خراب نہ ہوں اس لیے گاڑیاں استعمال کرتے ہیں ۔ کھڑی کھڑی چالیس سے پچاس گاڑیاں خراب ہو چکی ہیں ۔ احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ اگر گاڑیاں باہر جائیں اور ان کا ایکسیڈنٹ ہو جائے تو کیا ہو گا،پھر آپ پر ایک اور مقدمہ درج ہو جائے گا،نیب والے عدالت کے تھوڑے کہے کو زیادہ جانیں۔جج احتساب عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی ۔

 

Comments